عمران شناور .. لاہور۔۔۔۔۔ پاکستان

shanawar

غزل 

لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب
اور کیا دکھلائے گی تقدیر اب

خود ہی چل کر آگیا زندان تک
کیا کرو گے خواب کی تعبیر اب

اے مسیحا! جو ترے باتوں میں تھی
دل تلک پہنچی ہے وہ تاثیر اب

ہائے اک آہٹ نے پھر چونکا دیا
بولنے والی تھی وہ تصویر اب

ٹھیک میرے دل ہی پر آکر لگے
آخری ترکش میں ہے جو تیر اب

اور کچھ پانے کی حسرت ہی نہیں‌
مل گئی ہے پیار کی جاگیر اب 
 
*****
 
غزل

کچھ تو اے یار علاجِ غمِ تنہائی ہو
بات اتنی بھی نہ بڑھ جائے کہ رسوائی ہو

ڈوبنے والے تو آنکھوں سے بھی کب نکلے ہیں‌
ڈوبنے کے لیے لازم نہیں گہرائی ہو

جس نے بھی مجھ کو تماشا سا بنا رکھا ہے
اب ضروری ہے وہی شخص تماشائی ہو

میں تجھے جیت بھی تحفے میں نہیں دے سکتا
چاہتا یہ بھی نہیں ہوں تری پسپائی ہو

آج تو بزم میں ہر آنکھ تھی پرنم جیسے
داستاں میری کسی نے یہاں دہرائی ہو

کوئی انجان نہ ہو شہرِ محبت کا مکیں
کاش ہر دل کی ہر اک دل سے شناسائی ہو

یوں گزر جاتا ہے عمران ترے کوچے سے
تیرا واقف نہ ہو جیسے کوئی سودائی ہو

*****
 
غزل

جو تری قربتوں کو پاتا ہے
اس کو مرنے میں‌لطف آتا ہے

میں جسے آشنا سمجھتا ہوں
دور بیٹھا وہ مسکراتا ہے

میں تو ممنون ہوں زمانے کا
سیکھ لیتا ہوں جو سکھاتا ہے

میں ہی سنتا نہیں صدا اس کی
روز کوئی مجھے بلاتا ہے

تیرگی دربدر ہے گلیوں میں
دیکھیے کون گھر جلاتا ہے

تو نے منزل تو دیکھ لی عمران
اب تجھے راستہ بلاتا ہے

*****
 
غزل

میں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا
تیری نگری میں تو پتھر نہیں کھانے والا

تو نے دیکھا ہی نہیں ساتھ مرے چل کے کبھی
میں ہوں تنہائی کا بھی ساتھ نبھانے والا

مجھ کو تم دشتِ تحیر میں نہ چھوڑو تنہا
خوف طاری ہے عجب دل کو ڈرانے والا

خوف آتا ہے مجھے اپنی ہی تنہائی سے
روٹھ جاتا ہے کوئی مجھ کو منانے والا

دل وہ شیشہ کہ ترا عکس لیے پھرتا ہے
روز آتا ہے کوئی اس کو مٹانے والا

اس کی ہر بات سر آنکھوں پہ لیے پھرتا ہوں
مجھ کو اچھا بھی تو لگتا ہے رلانے والا

اس قدر اجنبی انداز سے کیوں دیکھتا ہے
میں وہی ہوں ترا کردار فسانے والا

ہر قدم سوچ سمجھ کر ہی اٹھانا اے دل
تیرا رہبر تو نہیں راہ بتانے والا

چاہے جتنی بھی سفارش کرو اس کی عمران
میں تری باتوں میں ہرگز نہیں Xenical Online آنے والا

******
 
غزل

بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں
جینے دیتی نہیں اس کی پہلی نظر بول میں کیا کروں

تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں
مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر بول میں کیا کروں

خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا، یونہی مر جاؤں گا
کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر بول میں کیا کروں‌

میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے
مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در بول میں کیا کروں

اڑ بھی سکتا نہیں، آگ ایسی لگی، کس کو الزام دوں
دھیرے دھیرے جلے ہیں مرے بال و پر بول میں کیا کروں

تو مرا ہو گیا، میں ترا ہو گیا، اب کوئی غم نہیں
پھر بھی دل میں بچھڑنے کا رہتا ہے ڈر بول میں کیا کروں

*****
 غزل

ہو درد اور درد کا درمان بھی نہ ہو
تو سامنے رہے تری پہچان بھی نہ ہو

مانا کہ عمر بھر تو مرا ہو نہیں سکا
ایسا بھی کیا کہ تو مرا مہمان بھی نہ ہو

آغاز اس سفر کا کریں آؤ مل کے ہم
جس میں کہیں بچھڑنے کا امکان بھی نہ ہو

ہو جائے جو بھی ہونا ہے ایسا نہ ہو کبھی
اس دل میں تیرے ملنے کا ارمان بھی نہ ہو

یاں ہر قدم پہ خوف ہے یاں ہر قدم پہ غم
دل کے نگر کا راستہ سنسان بھی نہ ہو

ہر بار پوچھتا ہے کہ آخر ہے بات کیا
ہمدم کسی کا اتنا تو انجان بھی نہ ہو

یہ قفلِ دل کلیدِ محبت سے کھول دو
ایسا نہ ہو کہ پھر کہیں عمران بھی نہ ہو

*****
 
غزل

پتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا
دل شکستہ آئنہ ہونا ہی تھا

میں بھی اس کو پوجتا تھا رات دن
آخر اس بت کو خدا ہونا ہی تھا

مسندوں پر ہو گئے قابض یزید
اس نگر کو کربلا ہونا ہی تھا

جلد بازی میں کِیا تھا فیصلہ
سو غلط وہ فیصلہ ہونا ہی تھا

اب مجھے افسوس کیوں رہنے لگا
وہ ملا تھا تو جدا ہونا ہی تھا

تیرا چہرہ جب نہیں تھا سامنے
آئنوں کو بے صدا ہونا ہی تھا

*****

نظم

 
خلا میں‌ غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں‌ خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے

………………

 

……………………………………

 
 

  • Share/Bookmark

Uncategorized میں تحریر کیا ہے

Online Urdu : مصنف

RSSتبصرات(5)

Leave a Reply | Trackback URL

  1. Uzma Mahmood says:

    بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں
    جینے دیتی نہیں اس کی پہلی نظر بول میں کیا کروں
    very difficult behr and perfect ghazal. congratulation

  2. Asif SHafi says:

    Imran. Very Good Poetry. Keep it Up.

  3. Imran Shanawar says:

    Uzma Mahmood & Asif Shafi,
    App donon ka boht boht shukria

  4. very Good poetry but you Poem is most beautifull
    mujhe bohat khushi hai keh achi nazmain aj bi likhi ja rahi hain
    duagho

    Ishaq Sajid (Germany)

  5. Imran Shanawar says:

    Ishaq Sajid Sb.
    Aap ka boht boht shukria k aapne meri hosla afzaee farmaee.

اب آپکا اپنا تبصرہ




  • کیٹگری

    • No categories

© 2010 OnlineUrdu.com - All Rights Reserved